ESSAY
سیرت النبی ﷺ
دنیا کی تاریخ میں بے شمار عظیم شخصیات گزری ہیں، مگر حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ایسی کامل اور ہمہ جہت شخصیت ہے جن کی مثال پوری انسانیت میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے رحمت، ہدایت اور بہترین نمونہ ہیں۔ اسی لیے قرآنِ پاک میں آپ ﷺ کو رحمت للعالمین قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ کی زندگی انسانیت کے ہر پہلو—عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور قیادت—کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
ولادتِ باسعادت اور خاندانی پس منظر
آپ ﷺ کی ولادت 571 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی، جس سال کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو ہاشم سے تھا۔ والد محترم حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے اور چھ سال کی عمر میں والدہ حضرت آمنہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یوں آپ ﷺ نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی۔
ابتدا میں آپ ﷺ کی کفالت دادا حضرت عبدالمطلب نے کی، اور ان کی وفات کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی پرورش کی۔ سخت حالات کے باوجود آپ ﷺ نے ہمیشہ صبر، دیانت اور راست بازی کا دامن تھامے رکھا۔
بچپن اور نوجوانی
بچپن میں آپ ﷺ نے بکریاں چرائیں، جو انبیاء کی سنت رہی ہے۔ نوجوانی میں تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور اپنی سچائی اور ایمانداری کی وجہ سے پورے مکہ میں مشہور ہوگئے۔ لوگ آپ ﷺ کو صادق (سچا) اور امین (امانت دار) کے لقب سے پکارتے تھے۔
اسی دیانت داری کی وجہ سے حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو تجارت کے لیے منتخب کیا اور بعد میں آپ ﷺ سے نکاح سمجھوتے کے بجائے محبت اور احترام کی بنیاد پر ہوا۔
اعلانِ نبوت اور دعوتِ اسلام
چالیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی جس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ یہ لمحہ انسانیت کی تاریخ کا اہم ترین لمحہ تھا کیونکہ اس سے جہالت کے اندھیرے ختم ہونے لگے۔
آپ ﷺ نے لوگوں کو:
-
توحید (اللہ کی وحدانیت)
-
عدل و انصاف
-
سچائی اور امانت
-
برائیوں سے دوری
کی دعوت دی۔
ابتدائی دور میں صرف قریبی لوگ ایمان لائے، مگر جیسے جیسے اسلام پھیلتا گیا، کفارِ مکہ کی مخالفت بڑھتی گئی۔
مشکلات اور صبر و استقامت
مکہ کے کفار نے مسلمانوں پر شدید ظلم کیے۔ مسلمانوں کو:
-
معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا
-
جسمانی اذیتیں دی گئیں
-
معاشی پابندیاں لگائی گئیں
یہاں تک کہ تین سال شعبِ ابی طالب میں محصور رکھا گیا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود آپ ﷺ نے صبر، برداشت اور دعا کا راستہ اختیار کیا اور کبھی انتقام کی بات نہیں کی۔
ہجرتِ مدینہ اور اسلامی ریاست کا قیام
جب مکہ میں ظلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ کے حکم سے آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت اسلامی تاریخ کا اہم ترین موڑ ثابت ہوئی۔
مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے:
-
مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا
-
مسجد نبوی کی تعمیر کی
-
دنیا کا پہلا فلاحی اور منصفانہ معاشرہ قائم کیا
آپ ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان امن اور انصاف کا معاہدہ کیا جو دنیا کی پہلی تحریری آئینی دستاویزوں میں شمار ہوتا ہے۔
اخلاقِ حسنہ اور رحم دلی
آپ ﷺ کے اخلاق بے مثال تھے۔ آپ ﷺ:
-
یتیموں اور غریبوں سے محبت کرتے
-
غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے
-
خواتین کے حقوق کی حفاظت کرتے
-
جانوروں تک پر رحم فرماتے
ایک بار ایک عورت روزانہ آپ ﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی۔ جب وہ بیمار ہوئی تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے گئے۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی عظیم رحم دلی کا بہترین نمونہ ہے۔
فتحِ مکہ — معافی کی اعلیٰ مثال
جب مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ کے پاس طاقت اور اختیار تھا کہ دشمنوں سے بدلہ لیتے، مگر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا:
"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"
یہ تاریخِ انسانیت کی سب سے بڑی عام معافی تھی۔
تعلیماتِ نبوی ﷺ
آپ ﷺ کی تعلیمات نے دنیا کو ایک نیا نظام دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
-
بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو
-
وعدہ پورا کرنا ایمان کی نشانی ہے
-
والدین کی خدمت جنت کا راستہ ہے
-
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے
وصالِ مبارک
63 سال کی عمر میں آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں۔ آپ ﷺ نے ایک ایسی امت چھوڑ کر گئے جو قیامت تک آپ ﷺ کے پیغام کو آگے بڑھاتی رہے گی۔
نتیجہ
حضرت محمد ﷺ کی سیرت ہمارے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اگر ہم:
-
سچائی اپنائیں
-
امانت داری اختیار کریں
-
محبت اور بھائی چارہ پھیلائیں
تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
